Ticker

6/recent/ticker-posts

اسلام کا وجود اور فلسفہ The Existence and Philosophy of Islam

اسلام کا وجود اور فلسفہ  The Existence and Philosophy of Islam

تھوڑی دیر کے لئےاپنے زہن کوعرب جاھلیت کے زمانے کی طرف متوجہ کرے تو آپ کو نظر آئے گا کہ ایک ایسا زمانہ بھی انسانیت کے اوپر گزرا ہے جس میں لوگوں کی جھالت انتہا کو  پہنچی ہوئی تھی۔پوری دنیا بلعموم اور عرب دنیا بلخصوص ظلم کدہ بنی ہوئی تھی۔ہر جگہ ظلم، بربریت،جھالت ،انتہا پسندی،امیر و غریب کا فرسودہ نظام۔آقا و غلام کا پست ترین سسٹماور نسل پرستی کی لعنت کا بول بالا تھا۔انسانی حقوق و فرائض کا کوئی نظام نہ تھا۔اخلاقی پستی ،معاشرتی پستی ،جنسی درندگی اورمالی فساد اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ممتا اور محبت کاگلا گونٹ دیا جاتا تھا۔ماں کے سامنے اس کے لخت جگر اور نور نظر بیٹی کو زندہ درگور کیا جاتا تھا۔قتل و غارت، اغوا،درندگی،جھگڑا فساد معمولات زندگی میں شمار ہوا کرتے تھے۔ 

اسلام کا وجود اور فلسفہ  The Existence and Philosophy of Islam

معمولی سی باتوں پہ تلواریں ننگی ہوجاتی اور خون کی ندیاں بہائی جاتی۔چالیس سال تک قبیلے آپس میں اس بات پہ ایک دوسرےسے لڑتے ،مرتے اور مارتے تھے کہ آپ کے گھوڑے نے گھاٹ سے پہلے پانی کیوں پیا۔ہمارے گھوڑے نے پہلے پانی پینا تھا۔رقص و سرورکی محافل کا سجھنا اور زانی عورتیں اپنی گھروں کے چھتوں پر جھنڈے اپنی خاص علامت کے طور پر گاڑ کے رکھتیں۔انسانوں کو غلام کے طور پر حیوانوں سے بھی بد تر سلوک کیا جاتا۔فسق و فجور اور اخلاقی پستی کے شکار اشعارمقدس عبادت گاہ اور مرکز علم و عمل کے دیواروں پہ لٹکتی اور جاھل شعرا اپنے لئے فخر و مباہات کا ذریعہ سمجھتے تھے۔مختصرا یہ کہ انسانیت تباہی اور بربادی کے گہرے اور عمیق سمندر میں ڈھوبنے کی تیاری کر ہی رہی تھی کہ خالق انسان و انسانیت ، مالک کون ومکاں، رحیم و کریم کی رحمت جوش مارنے لگی۔ایک ایسے شخص کو مبعوث بہ رسالت کیا کہ جس کو اس گندے اور نجس معاشرے کے لوگ صادق و امین کہا کرتے تھے۔رب نے اسے اپنی رحمت کا مظھر اور ہدایت کا بلند مینار بنا کر اس معاشرے میں بیجھا۔اس عظیم المرتبت ہستی نے دنیا کا کانسا پلٹ دیا۔دنیا آنکھ جپکھتے ہی گہوارہ امن و امان بن گئی۔۔ راھزن رھنماء بن گئے۔ جاھل عرب بدھو

اور صحرا نشین معلم علم و ادب بن گئے۔ سرکش و طغیان گر لوگ مطیع و فرمانبردار محض بن گئے۔

انسانیت کے عروج وزوال کے اس سلسلےکا یہ عظیم واقعہ دنیا میں ایک بڑی تبدیلی کا باعث بنا اور اس نے پوری تاریخ انسانیت پر اثرات چھوڑ دیئے۔ دنیا میں انبیاء مبعوث ھوئے ہیں، انبیائے اولوالعزم مبعوث ھوئے ہیں اور بھت سے بڑے بڑے واقعات رونما ھوئے ہیں، لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے بڑھ کر کوئی واقعہ نھیں ہے۔

پس معلوم ہوا کہ اس معاشرے میں اسلام جیسے دین کی کتنی ضرورت اور حاجت تھی۔اس دین نے بیٹی کو رحمت قرار دیا۔آقا و غلام کے تصور کو مٹا دیا۔امیر و غریب کا تصور برابری کے تصور کے ساتھ بدل ڈالا۔ اور " ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز" کے عملی مصداق بن گئے ۔نسل پرستی کی جڑوں کو کھوکھلا کرکےاخوت و بھائی چارگی کی خوبصورت فضا قائم ہوئی۔لوگ آپس میں شیر و شکر ہوگئے۔ظلم و بربریت اپنی موت آپ مر گئی۔دنیائے عرب و جھالت اور اخلاقی پستی کا نمونہ ہوا کرتے اپ وہ علم و عمل کے علمبردار بن گئے۔یہ سب رسول اور دین مبین اسلام کی وجہ سے ممکن ہوا ۔یہ سارے ثمرات دین مبین اسلام کے پھل دار درخت کے بدولت دنیا کے ہاتھ لگے۔یہاں مختصرا دین اسلام کے مقاصد کو بیان کرنے کی کوشس کی جائے گی۔

1۔ انسانوں کی تعلیم و تربیت 

2۔ ا نسانوں کی ہدایت و راہنمائی۔

3 ۔انسانی معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام۔

4۔انسانی عقل و شعور و آگاہی کے منازل طے کروانا۔ 

5۔ باہمی اختلاف کی صورت حال کا خاتمہ۔

6۔مساوات اور برابری کے نظام کا قیام۔

7۔انبیاء کے ذریعے قابل ھدایت افراد پر اتمام حجت کرنا۔

8۔خداو ند متعال کی نعمتوں کی یاد آوری اور متوجہ کروانا۔

9۔انسانوں کو خالص عقائد، پسندیدہ اخلاق اور شایستہ اعمال سکھائیں جو انسان کی دنیوی و اخروی زندگی کے لئے فائدہ مند ہو۔

10۔ لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دینا اور طاغوت سے دور رکھنا۔


عارف حسین مدبری

Post a Comment

0 Comments