Ticker

6/recent/ticker-posts

علم سے اپنی قسمت خود لکھو Write your own destiny with knowledge

علم سے اپنی قسمت خود لکھو Write your own destiny with knowledge

اہم بات یہ ہے کہ علم و پانے کے لیے پہلے خود کو پکانا پڑتا ہے۔جو آگ کی بھٹکی میںپک کر صحراوں میں سفر کر کے علم کی تڑپ اور طلب لےکر نکلتے ہے۔ایسے پیاسوں کے نصیب میں ہی علم جیسا حسین جام آتا ہےاور پھر اس حسین جام کو پی کر ہیاپنے آپ کو سیراب کر لیتے ہیں۔علم وہ لازوال دولت ہے جو جس کی مقدر میں آجاتی ہے پھر دنیا کیدولتیں اسکی قدموں میں پڑی رہتی ہیں۔
علم سے اپنی قسمت خود لکھو Write your own destiny with knowledge

تین دوست ایک مرتبہعلم کی تلاش میں نکلی ۔تینوں دوست جب اپنا رخت سفر بانھ لیتے ہیں۔وہ ایک کشی میں بیٹھے اور کہا جاتا ہے اس وقت سمندر کے اندر جب کشتی اترتی تھی تو آپ کا مقدر حلال  کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیا جاتا تھا۔ہوا جس جانب رخ کرتی تھی کشتی اس جانب اپنا رخ کر لیا کرتی تھی۔
انکی کشتی طوفان کی ضم میں آجاتی ہے اور تین مہینوں تک اسی سمندر کے اندر کودتی رہتی ہے اور ان کا کھانے پینے کی چیزیں اشیاٸے خوردونوش ختم ہوجاتا ہے۔کہتے ہے اچانک ایک ہوا کا جھونکا  آتا ہے اور کشتی کو کنارے پہ جا کے چھوڑے۔اور وہ لگ کنادے سے چلتے چلتے کہتے ہے کہ ایک دن گزر جاتا ہے۔پھر ایک دن پیاس کا شدت اس قدر بڑھتا ہے کہ تینوں دوست پانی کی تلاش میں  نکلتے ہیں۔پہلے ایک دوست پیاسا ہوتا ہے اور اس قدر پیاسا ہوتا ہے  کہ پیاس کے عالم میں بے ہوش ہو جاتا ہے۔پھر دونوں دوست پانی کے تلاش میں نکلتا ہے کہ کہیں سے پانی مل جاۓ اور ہم اپنیپیاس بجاٸیں اتنی ہی دیر میں دوسرا دوست بھی بے ہوش ہوجاتا ہے۔تیسرا دوست بہوش ہونے ہی ولا تھا بس وہ قافلے کے پاس پہنچ جاتا ہے۔قافلے والے آ کے اسے پانی پیلاتا ہے وہ ہوش میں آتا ہے اور ان کو اپنے دوستوں کے پاس لے کر جاتا ہے۔قافلے والے جا کے ان کے منہ پہ پانیچھڑکتے ہیں تو ان کو ہوش آتے ہیں تو ان کو بھی پانی پلاتے ہیں۔پانی پلانے کے بعد انہیں سفر میں کھانے کے لیے کچھ اشیاۓ خوردونوش دیتے ہیں اور کہتے ہیں یہ آپ اپنے پاس رکھے اپکی سفر میں آسانی ہوگی۔پھر بھی انہوں نے سفر نہیں چھوڑا کیونکہ علم کی پیاس پانی کی پیاس پر بازی لے کر چلی گٸی ۔پانی کہا کہ شاید میں ان کے اندر علم کے پیاس کو مار دوں گا لیکن نہیں علم کی پیاس نے اٹھ کر کہ ہاں دنیا کے ہر ایک پیاس ختم ہو سکتی ہے لیکن جام علم ایک ایسا جام ہے آپ جیسے جیسے ہی پیتے جاٸینگے آپکی پیاس میں اضافہ ہوتا جاۓ گا۔پھر تارٸخ بتاتے ہے کہ ان میں سے ایک شخص وقت کا محدث اور دنیا اس شخص کو ابو حاتم الرازی کے نا م سے جاننے لگے۔

Post a Comment

0 Comments