Amazon

Ticker

6/recent/ticker-posts

ڈرنا منع ہے Fear Is Forbidden

ڈرنا منع ہے Fear Is Forbidden

 وکیل صاحب حبیب خان کی حویلی پہنچ چکے تھے اور وہ اس حویلی کو بہت غور سے دیکھ رہے تھے کچھ تو عجیب سا تھا
آج بہت عجیب عجیب سا سماں تھا کیونکہ آج کئی سالوں کے بعد کسی نے یہاں قدم رکھا تھا۔ وکیل صاحب اپنے چار آدمیوں کے ساتھ یہاں آئے تھے۔ وکیل صاحب اس حویلی کی پرسرار کہانی سے اور اس حویلی کے کئی اہم رازوں کو بھی جانتے تھے وہ اپنے تمام ساتھیوں کے ہمراہ مین ہال میں چلے گئے جہاں حبیب خان کی ایک بہت ہی نایاب تصویر لٹکی ہوئی تھی۔ وکیل صاحب نے جب اس تصویر کو دیکھا تو ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے کیونکہ یہ دونوں بہت اچھے دوست تھے۔ وکیل صاحب نے اپنے تمام ساتھیوں کو گسٹ روم دکھایا کہ آپ سب یہاں آرام کرو۔ اور وہ حبیب خان کے کمرے میں آرام کرنے چلے گئے۔ رات کا وقت ہوگیا تھا پوری حویلی ایک عجیب سا نظارہ دکھا رہی تھی۔ سب سو رہے تھے مگر کوئی تھا جو ان سب پر نظر رکھے ہوئے تھا یہ کون تھا اس کا اندازہ کسی کو نہیں تھا اسی حویلی کے ایک کمرے میں بہت کچھ پراسرار چھپا ہوا تھا جس سے سب ہی انجان تھے۔ ایک غیبی طاقت اس پوری حویلی کو اپنے محاسرے میں لئے ہوئی تھی یہ غیبی طاقت کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑنا چاہتی تھی کیونکہ یہاں جو کچھ ہوتا تھا اس کا اندازہ کسی کو بھی نہیں تھا۔ گسٹ روم میں سب سو رہے تھے کہ ایک آدمی کی ٹانگ ہوا میں ہوئی جیسے کسی نے اس کو پکڑ لیا ہو اور اس کے منہ پر جیسے کسی نے زور سے ہاتھ رکھ لیا ہو کہ اس کی آواز تک نا نکلے اور اس پراسرار چیز نے اس آدمی کو زور سے کھینچا اور وہ آدمی زمین پر گر گیا مگر وہ کسی کو کچھ کہہ نا سکتا تھا کہ جیسے اس کا منہ بند کر دیا ہو وہ زمین پر گھسیٹتا چلا گیا اور وہ غیبی طاقت اسے اس کمرے سے باہر لے گئی اور وہ کمرے سے باہر آگیا وہ مسلسل زمین پر گھسیٹتا گیا اور وہ سیڑیوں تک آگیا مگر اس کی آواز زرا سی بھی نہیں نکل رہی تھی وہ سیڑیوں سے بھی گھسیٹتا ہوا نیچے آتا گیا اور وہ بری طرح زخمی بھی ہو گیا اس کے چہرے پر بھی کوئی ناخن مارتا جارہا تھا اور اس کا پورا چہرا خون سے تر ہوگیا پھر اسے غیبی طاقت نے زمین سے اٹھا کر بہت اوپر اچھالا اور وہ پھر زمین پر آکر زور سے گرا پھر وہ گھسیٹتا ہوا ایک تہہ خانے میں آگیا یہ تہہ خانہ بہت پراسرار نظر آرہا تھا اور یہاں بہت بدبو بھی تھی کیونکہ یہ کئی سالوں سے بند تھا۔ وہ بندہ اب غیبی طاقت کے ہاتھوں بہت نقصان اٹھا چکا تھا۔ اس غیبی طاقت نے اس بندے کو اٹھا کر ایک میز پر لیٹا دیا اور پھر وہاں ایک کلہاڑا پڑا ہوا تھا وہ ہوا میں معلق ہوا اور اس نے اس بندے کا گلا کاٹ دیا گلہ کٹتے ہی خون کا ایک پھواڑا سا نکلا اور وہ ٹھنڈا ہوتا جارہا تھا وہ کلہاڑا پھر ہوا میں معلق ہوا اور اس کے بازو کاٹ دئے اور اس بازو کے بھی کئی ٹکڑے کر دئے پھر اس کی ٹانگیں کاٹیں پھر اس ٹانگ کے بھی کئی ٹکڑے کر دئے اس بندے کا وہ حال ہوا کہ اس کی شکل تو کیا اس کی پہچان تک کرنا مشکل تھی اچانک اسی جگہ پر گلاب خان آگیا جس کے ہاتھ میں کلہاڑا تھا جوکہ خون سے رنگا ہوا تھا اور گلاب خان مسکرا رہا تھا اور اس نے اس بندے کے سر کو اٹھایا اور اس کے اندر سے نکلتے ہوئے خون کو بھی پی لیا گلاب خان کے ہونٹوں پر خون ہی خون تھا اور پھر وہ غائب ہوگیا اور کلہاڑا ہوا میں معلق ہوگیا اور اس کا سر بھی اور اس کے کٹے ہوئے ہر اعضا ہوا میں معلق ہوگئے اور اس کمرے کا دروازہ زور سے بند ہو گیا اور اس بندے کی کہانی تو ختم ہوگئی مگر اس کے ساتھ کیا ہوا اس کا کسی کو بھی علم نہیں ہو پائے گا۔ 

وکیل صاحب سو رہے تھے اور حبیب خان ان کے خواب میں آتے ہیں اور ان کو ایک چابی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ گواہری تو میرا دوست ہے اور مجھے تم پر بھروسہ ہے مگر میرے پوتے کی جان خطرے میں ہے تو اس کو بچا لے اور یہ چابی تمہیں اس مقام تک پہنچا دے گی جہاں سے یہ سب سسلسلہ شروع ہوا تھا میں نے جو غلطی کی اس کی سزا میری آنے والی ہر نسل کو ملے گی اور اب میرے پوتے سائم خان کی جان کو خطرہ ہے میرے پیر غلام عارف میاں بھی اس معاملے کو حل کرتے کرتے اللہ کو پیارے ہوگئے تھے مگر تم اس چابی سے اس راز کو کھولو گے جو شاید تمہیں تمہاری منزل تک پہنچائے گا۔ اور میری آنے والی نسل تمہاری شکر گزار رہے گی میرے پاس بہت دولت ہے اور تم میرے وفادار ہو تمہیں علم ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد جنگجو تھے اور انہوں نے بہت دولت حاصل کی ہے اب میں چاہتا ہوں کہ تم ہماری مدد کرو تم ہی اب ہماری آخری امید ہو۔ یہ خواب دیکھتے ہی وکیل صاحب اٹھ گئے اور ارد گرد دیکھنے لگ گئے۔ 

۔

Post a Comment

0 Comments