Ticker

6/recent/ticker-posts

دو قسم کے لوگوں کو کبھی عزت نصیب نہیں ہوتی

دو قسم کے لوگوں کو کبھی عزت نصیب نہیں ہوتی

 امید اور حقیقت کے درمیان توازن رکھنے والا شخص کبھی غمگین نہیں ہوتا۔جب ہماری موجودگی میں ہماری کوٸی قدر نہیں کرتا تو اس سے اس سے دور اس آرزو میں چلے جانا کہ اب شاید اسے ہماری قدر ہو جاۓ گی،ایسا کرنا بلکل ایسا ہی ہے جیسے سوکھی لکڑیوں پہ پانی بہا کے آگ جلانے کی کوشش کرتے رہنا۔
جنہیں احساس نہیں ہوتا انہیں کبھی بھی نہیں ہونا چاہے سات سمندر پار ہی کیوں نہ چلے جاٸیں۔ان کے لٸے آپ کا وجود ایسے ہی بے معنی ہے جیسے ایک نابینا کے لٸے قوس قزاح کے رنگ۔میں نے لوگوں کے بلند قہقہوں میں ان کے ٹوٹتے حوصلوں کو محسوس کیا ہے۔جھریوں میں پوشیدہ داستانوں کو جانا ہے ۔میں نے لوگوں کی اداس آنکھوں سے مسکراتے دیکھا ہے۔تب احساس ہوا ہم حادثوں کا شکار ہیں،سب پر اپنی اپنی ایک قیامت ہوتی ہے جسے کوٸی نہیں جانتا۔
کبھی کبھی انسان ایک چھوٹی سی چوٹ پر زرا سی تکلیف پر بری طرح ٹعٹ کر رو دیتا ہے۔دیکھنے والے طنز کرتے ہیں کہ اتنے سے دردپر بھی کوٸی روتا ہے۔لیہن وہ یہ نہیں جانتے کہ نہ رکنے والے آنسو بظاہر نظر آنے والی اس چوٹ کے نہیں بلکہ اندر کے اس درد کے ہیں جو انسان کسی سے کہہ نہیں پاتا اس تکلیف کے ہیں جو انسان اکیلے سہتا ہے۔
انسان تب ہی اللہ کے طرف رجوع کرتا ہے جب وہ دنیا میں اپنا ہر ہر آزما لیتا ہے اور پھر بھی اسے چین اور اطمینان صیب نہیں ہوتا۔پھر اس کو یقین ہوتاہے کہ صرف اللہ کی محبت کے سوا ہر محبت نے فنا ہو جانا ہے۔
وقت دنیا کا س سے بڑا جادوگر ہوتا ہے جو ایک پل میں آپکے چاہنے والوں کے چہرے سے نقب ہٹا دیتا ہے۔ریڑھی پر پھل سبزی بھیجنا بھی اسلام کی تبلیغ ہے اگر بیجھنے والا اس کا عیب بتا کر بیچے۔اگر کوٸی کسی کے بغیر مر نہیں جاتا تو کسی اپنے کے بغیر جی بھی نہیں پاتا ظاہری پہچان پر کبھی مت جاٸے لوگ اندر سے بہت ٹوٹے ہوۓ ہیں اتنی کرچیاں خود کے اندر سمیٹ رکھی ہیں۔
اس کے پاس مت جاو جو تمہیں برداشت کرتا ہےبلکہ اس کے پاس جاو جو تمہارے انتظار میں ہے۔کطچھ دروازے ہم کو خود پر ہی بند کرنے پڑتے  ہیں زندگی میں خود فریبیوں،خوش گمانیوں میں رہنے سے بہتر ہے کہ انسان ایک بار خود جو حقیقت سے روبرو کر لے۔
دو قسم کے لوگ کبھی عزتدار نہیں ہو سکتے ایک خوشامد کرنے والا دوسرا منافق
منافق کے تین نشانیاں
جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے۔
جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔
اور جب اس کے پاس امانت رکھواٸی جاۓ تو اس میں خیانت کرے۔
شچ بات کہنے کی عادت ڈالو چاہے وہ کتنی ہی کڑوی ہو سچ سننے کی عادت ڈالو چاہے وہ تمہارے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔علم یہ ہے کہ آپ کو معلوم ہو کیا کہنا ہےاور حکمت یہ ہے کہ آپ کو معلوم ہے کہ کب کہنا ہے۔

Post a Comment

0 Comments