Ticker

6/recent/ticker-posts

عورت محبت میں زلیل کیوں ہوتی ہے؟ Why is a woman humiliated in love?

عورت محبت میں زلیل کیوں ہوتی ہے؟ Why is a woman humiliated in love?

جن سے ہمیں محبت ہوتی ہے ان کےجھگڑے میں ان کے غصے میں اور انکی ناراضگی میں بھی اپنا پن اور محبت کا احساس ہوتا ہے ان کے کڑوے لفظوں میں بھی مٹھاس سی ہوتی ہے اور اس لٸے جب میں ناراض ہوتی ہوں تو مجھےان کا منانا اچھا سا لگتا ہے۔اور جب وہ مجھ سے ایک لمحہ بھی بات نہ کرے تو اداسی اور ادھورا پن سا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ نہیں تو کچھ بھی نہیں وہ ہے تو میں ہوں۔

سب لوگ سمجھتے ہیں مجھے اس کا انتظار ہے مگر میں کیسے بتاٶں اور کس کس کو بتاٶں کہ اس کے رویے نے ایسا کوٸی انتظار میری آنکھوں میں بسایا ہی نہیں،انتظار بھی وہاں ہوتا ہے جہاں امید کا کوٸی دروازہ کھلا ہو۔

کاٸنات میں ایسا کوٸی زخم نہیں جیسے اللہ نہیں بھر سکے۔ایسے تعلقات کوکیا نام دے انسان و بس رابطے کا محتاج ہو۔ہم نبھاٸیں تو سامنے والا نبھاۓ گا ہم چپ تو سامنے والا بھی چپ مطلب مطلب تو یہ ہوا کہ ہم نبھاٸیں گےتو ہی قدر پاٸیں گے۔

کبھی یہ نہ سوچیں کہ دوسرے شخص کو آپ سے محبت نہیں ہے اس سے آپ آزاد ہو جاٸیں گے محبت ہو بھی تو عارضی ہےاور عارضی شہ مل بھی جاۓ تو ہمیشہ کےلیے ہماری نہیں ہو سکتی۔

لوگ بدلتے نہیں بس بے نقاب ہوتے ہیں۔اور جب ایک بار ان کی شخصیت کا حقیقی رنگ نظر آجاۓتو کوشش کریں کہ اسے دوبارہ رنگنے کے بجاۓ کنارہ کر لیں۔ل

اچھاٸی اور براٸی

سب انسان اپنے اندر اچھاٸی لے کر پیدا ہوتے ہیں۔اور بعد میں اچھے یا برے کام کرنے لگ جاتے ہیں۔اچھے لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنی اصلاح کر لیں۔اور برے لوگ وہ ہوتے ہیں جو براٸی پر اصرار کریں۔اور کرتے چلے جاٸیں براٸی انسان کے ساتھ پیدا نہیں ہوتی۔وہ انسان خود اپنے ساتھ چپکا لیتا ہے۔

مجھےوہ دن بہت یاد آتے ہیں۔جب میں تمہیں دن بھر کی داستان سناتی تھی آج میں نے یہ کیا،وہ کیا یہاں گٸیوہاں گٸی امی نے ڈانٹا میں روٸی،آج میں بہت خوش ہوں ، آجمیں بہت اداس ہوں،ایسے کیا ویسے کیا،آج میرے سر میں درد ہے بولنے پر آتی تھی تو چپ کرنا بھول جاتی تھی،تم بھی چپ چاپ سنتے رہتے تھے۔میری پاگل باتیں مگر اب کسی سے کچھ کہنے کا دل نہیں چاہتا۔کتنی تکلیف ہو،کتنا دکھ ملے کسی کو نہیں سناتی،تمہیں اپنی ذات تک رساٸی دی تھی۔تمہارے لہجےمیں تلخیوں کے بعد اپنی ذات کو دفن کر دیا۔تمہارے چلے جانے کے بعد میں نے چپ رہنا سیکھ لیا۔

جن مردوں کو یہ لگتا ہے نہ عورت کو رلانے،تڑپانے اور ترسانے سے اسکی محبت شدت اختیار کرتی ہے تو انکی اہمیت بڑی غلط فہمی ہے۔جب عورت آنسو بہاتی ہے تو رفتہ رفتہ اسکی آنکھوں سے آپ کی محبت بہیجاتی ہےجس دن صبر آ گیا آنسو ختم محبت ختم۔

ایسا  ہے جس سے آپ کو بے پناہ محبت ہو اور وہی بندہ مسلسل  آپ کی تذلیل کر رہا ہو تو ایک وقت آتا ہے جب ہمارے جذبات سختی اختیا کر لیتے ہیں اور کہیں نہ کہیں محبت دب جاتی ہے پھر آپ کو اس کی دی ہوٸی تکلیف یا دکھ محسوس نہیں ہوتا سب بے معنی سا لگتا ہےاس سے نفرت تو نہیں ہوتی پر محبت خاموش ضرور ہو جاتی ہے اور پھر اسے کھونے کا ڈر بھی ختم ہو جاتا ہے۔

جب عورتیں مردوں کی تمام خواہشات شادی سے پہلے ہی پوری کر دیں گی تو مد کو نکاح کی کا ضرورت ہے پھر۔

جب مرد عورتوں کے دامن کو داغدار کریگے تو ان کے حصے میں پاک دامن عورت کیسے آۓ گی۔

عورت سب سے زیادہ زلیل تب ہوتی ہے جب وہ اپنی پہلی محبت کی بھیک اس شخص سے مانگتی ہے جس سے وہ محبت کرتی ہے۔جو لوگ زندگی میں حسارے برداشت کرنے کے عادی ہو جاٸیں۔انکے لٸےاہنی قیمتی چیزوں اور بے پناہ محبت سے بناۓ گٸے رشتوں سے دستبردار ہونا بہت آسان ہو جاتا ہے۔کہتے ہیں اپنی جگکہ چھوڑنی نہیں  چاہیے مگر یہلعگ باآسانی سے منظر سے ہٹ جاتے ہیں اور عجیب یہ کہ اس پر ملال بھی نہیں کرتے۔

کھونے کا ہنر انسان بہت اذیتوں اور تکلیفوں سے گزر کرسیکھتا ہے مگر ایک بار کسی شخص کو تکلیف کامل ہو جاۓاور وہ اس فن کو سیکھ جاۓ تو پھر وہ چیزوں اور لوگوں سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔

Post a Comment

1 Comments