Amazon

Ticker

6/recent/ticker-posts

پچھتاوا Remorse

پچھتاوا  Remorse

نازنین ایک بہت سادہ لڑکی تھی جسے زمانے کے بارے میں زیادہ نہیں پتا تھا وہ سوچتی تھی اسکا ظرف بہت بڑا تھا یا شائد اسکا دل 

مگر اس بار وہ جہاں اپنے دل کو آ زمانے چلی تھی وہ کوئ آ سان جگہ نہ تھی وہاں قدم قدم پر اس کے لئیے مشکلات تھی 

اس کے لئیے ساحل کا رشتہ آ یا تھا جو کہ پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اچھا کماتا اور جو بھی کماتا ماں اور بہنوں کے لئے کافی ہوتا ساحل اپنی ماں اور بہنوں پر جان چھڑکتا تھا جو وہ کہ دیتیں پتھر پر لکیر ہوتا 

دنیا کی تمام تر سازشوں سے پاک نازنین کے لئیے جب ساحل کا رشتہ آ یا تو سادہ لوح ماں باپ نے اس بنا پر کہ اچھا کھاتا کماتا ہے نازنین کے نصیب کو ساحل سے جوڑنے کا سوچا اور تھوڑی سوچ بچار کے بعد ہاں کر دی اب تو جیسے نازنین ساحل کے سپنے دیکھنے لگی تھی خود ہی اس سے باتیں کر کے مسکراتی رہتی ساحل نازنین کی زندگی میں آ نے والا واحد مرد تھا 

منگنی کے بعد ساحل نے نازنین کے لئیے ایک بہت خوب صورت موبائل خریدا اور ایک دن چاچا سلیم سے ملنے کے بہانے گھر جا پہنچا 

چاچا سلیم نازنین کا باپ تھا جو یو ں داماد کو دیکھا تو پھولے نہ سمایا اور گھر کے اندر لے آ یا 

ایک پرانی کرسی جس کا کپڑا بھی کافی پرانا تھا اس کو جھاڑ کر ساحل کو اس پر بٹھایا اور خود نازنین کی ماں کو بلانے چلا گیا اسی دوران نازنین ساحل کی موجودگی سے بے خبر گنگناتی ہوئی کمرے میں آ ئ اور آ ئنے میں شکل دیکھنے لگی اور لگی خود سے باتیں کرنے 

بولو ساحل تمہیں تمہاری نازنین کیسی لگتی ہے 

اچھی یا بری 

پہلے تو ساحل نازنین کو یوں دیکھ کر سٹپٹا گیا مگر جب نازنین ی بات سنی تو ایک مسکراہٹ اس کے لبوں پر دوڑ گئ 

وہ جلدی سے نازنین کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا اب شیشے میں و وجود تھے 

نازنین نے جو شیشے میں ساحل کو دیکھا تو ایک دم گھبرا گئ اور فورا پلٹی ساحل نے نازنین کو کاندھے سے پکڑا اور لال سرخ آ نکھوں میں مچلتے جزبات سے بولا ساحل کی جان تم ساحل کو بہت پیاری اور بہت معصوم لگی ہو پہلی منہ دکھائ کا پہلا تحفہ قبول کرو ساحل نے جیب سے موبائل نکال کر نازنین کے ہاتھ میں تھما دیا 

یہ کیوں جی نازنین نے کانپتے لبوں سے دھیرے سے پوچھا 

تا کہ تمہیں سن سکوں شام کو کال کروں گا 

ساحل نے نازنین کے گال تھپتپاتے ہوئے کہا نازنین کرنٹ کھا کر پیچھے ہوئ 

اسی دوران اسے ابو کے بولنے کی آ واز آ ئ اور وہ بھاگتی ہوئ وہاں سے چلی گئ  ساحل جلدی سے صوفے پر بیٹھ گیا اور مسکرانے لگا

کمرے میں بند ہو کر جانے کتنی دیر وہ دیوار کے ساتھ لگ کر بے ترتیب سانسوں کو درست کرتی  رہی جب اوسان بحال ہوئے تو اپنے گالوں پر ہاتھ لگایا اسے شدید شرم آ ئ اور اس نے شرم سے آ نکھیں بند کر لیں 

نازنین معصوم کو یہ نہیں پتا تھا کہ موبائل لے کر اس نے کتنی بڑی غلطی کی ہے دونوں کی روز باتیں ہوتیں نازنین کو تو جیسے ساحل سے عشق ہو گیا تھا 

ایک دن نازنین کی بڑی نند اپنے شوہر اور۔بچوں کے ساتھ نازنین کے گھر جا پہنچی نازنین نے جی جان سے خدمت کی سارا دن کام کر کے اس کی کمر ٹوٹنے والی ہو گئ تھی مگر وہ خوش تھی اور سوچ رہی تھی کہ اب نند بھی خوش ہوگی جب جانے کا وقت آ یا تو سب دروازے تک شہلا باجی کو چھوڑنے آ ہے مگر اسی دوران نازنین کی جوتی ٹوٹ گئ وہ جوتی بدلنے اندر گئ مگر تب تک سب جا چکے تھے اسے بہت دکھ ہوا کہ وہ شہلا باجی سے مل نہیں سکی اس بات کا شہلا نے بہت برا منایا اور جا کر ساحل کے خوب کان بھرے  رات کو ساحل نے فون نہیں کیا نازنین بیچاری سارا دن انتظا میں رہی وہ تو خوش تھی کہ ساحل کو بھی اچھا لگا ہو گا دو تین گزر چکے تھے ساحل کی طرف سے خاموشی تھی  اس وقت ساحل کھانا کھا رہا تھا جب فون کی بیل ہوئ اس نے نوالا منہ میں ڈال کر موبائل نکالا اور نمبر دیکھ کر کاٹ دیا ایک بار فون کی بیل پھر بجی ساحل نے غصے سے فون کو دیکھا اور باہر آ کر فون اٹھایا کیا مسلہ ہے جب ایک بار کال کاٹ دی ہے تو کیوں فون کر رہی ہو 

جواب میں نازنین کی سسکیوں کی آواز سنائ دی ایک لمہے کے لئیے اسکا دل پگھلا مگر پھر اسکا دل سخت ہو گیا۔کیا ڑرامہ کر رہی ہو 

میں ڈرامہ نہیں کر رہی آپکی ناراضگی سے پریشاں ہوں 

اگر اتنا ہی میری ناراضگی کی پرواہ ہوتی تو یوں کبھی میری بہن کی بے عزتی نہ کرتی ساحل نے غصے سے کہا مگر میں نے تو ان کی اتنی خدمت کی تھی نازنین نے حیرانگی سے کہا 

تو اب تم جتا رہی ہو ساحل کی بات سن کر نازنین تڑپ اٹھی ایسی بات نہیں ہے ساحل بخدا میں نہیں جانتی کہ کس بات کا شہلا باجی نے برا منایا ہے  

نازنین بی بی مہمان کو صرف کھلانا ہی سب کچھ نہیں ہوتا ان کو عزت بھی دینی ہوتی ہے 

تم درازے تک چھوڑنے کیوں نہیں آ ئ میری بہن کو 

ساحل کی بات سن کر تو جیسے نازنین کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا مطلب ایک زرا سی غفللت اور کیسے ساحل تک سب کچھ یوں پہنچایا گیا 

میں معافی چاہتی ہوں ساحل آ ئیندہ ایسے نہیں ہوگا 

پہلی غلطی سمجھ کر۔معاف کر رہا ہوں سمجھی آ ئیندہ شکائیت کا موقع نہ ملے 

جی آ ئیندہ خیال رکھوں گی نازنین نے آ نسو پیتے ہوئے جواب دیا 

کھانا کھا کر بات کرتا ہوں نازنین نے سنکر فون کاٹ دیا نازنین کی اب اکثر شامت آ ئ رہتی کبھی چھوٹی نند کو سالگرہ کا گفٹ پسند نہیں آ یا تو کبھی منجھلی والی کو کھانا نہیں پسند اسی طرح کرتے شادی کا دن آ گیا آ ج ساحل نے آ ف وائٹ شیروانی اور لال کلع پہنا تھا اپنی وجاہت کے نشے میں چور ساحل نازنین کو اپنے گھر لے آ یا 

آج اگر چودھویں کا چاند بھی نازنین کو دیکھتا تو شر ما جاتا مگر اس وقت سخت دل ساحل کا دل دیکھنے والا تھا جب کمرے میں نازنین اسکا انتظار کر رہی تھی اور وہ ماں بہنوں کے ساتھ کمرے میں بیٹھ کر باتیں کر رہا تھا اس وقت رات کے دو بج رہے تھے جب اس نے صبا کی آ نکھوں میں بیزاری دیکھی یعنی وقت کافی ہو چکا تھا 

ساحل نے اجازت لی اور کمرے میں چلا گیا 

کمرے میں داخل ہو کر اس نے نازنین کو دیکھا جو تکئیے کے ساتھ ٹیک لگائے بے خبر گہری نیند سو رہی تھی 

ساحل دبے پاؤں چلتا ہوا اس کے پہلو میں آ کر لیٹ گیا 

صبح ہوئ نازنین کمرے میں بیٹھی تھی جب ساحل غصے سے کمرے میں داخل ہوا چلو اٹھو اور ناشتہ لاو میرے لئیے 

نازنین نے حیرت سے ساحل کو دیکھا 

ایسے کیا دیکھ رہی ہو سنا نہیں جاؤ اور ناشتہ لاؤ ساحل کا غصہ دیکھ کر نازنین جلدی سے جوتا پہن کر باہر کچن میں آ گئ سامنے شہلا باجی کو دیکھا اور سلام کیا 

وعلیکم سلام شہلا نے اوپر سے نیچے تک نازنین کا جائزہ لیتے ہو ہئے کہا 

ناشتہ بنانے لگی ہو کیا 

جی باجی نازنین نے دھیرے سے کہا پہلے میرے لئیے ناشتہ بنا دو پراٹھا اور  چیز والا آ ملیٹ 

مگر مجھے تو چیز والا آ ملیٹ بنانا نہیں آ تا نازنین نے پریشانی سے کہا

اے لو اماں نے غصے سے دیکھا اب نا بنانے کے  بہانے

رہنے دو اماں اسی لئیے کہتی تھی اتنے چھوٹے لوگوں میں شادی نہ کرو اب اس کو کیا پتا چیز والا آ ملیٹ کس بلا کا نام ہے صبا کی بت سن کر سب ہنسنے لگیں 

نازنین کی آ نکھوں میں آ نسو آ گئے لو اب مہرانی رونے لگ گئیں 

ساحل او ساحل ادھر آ 

شہلا نے بلند آواز سے ساحل کو پکارا 

ساحل سیڑھیاں پھلانگتا ہوا نیچے آ یا کیا ہوا آ پا 

اب تیری کل کی آ ئ بیوی ہمیں آ نکھیں دکھاتی ہے 

میں نے کہا چیز والا آ ملیٹ بنا دو تو  صاف جواب دے دیا کہ خود بنا لو 

نازنین کنگ ہو کر شہلا کو دیکھنے لگی 

اس نے ایسا کب کہا تھا 

آ پا اس کی اتنی جرات آ پکو منع کرے ساحل نے آ گ برساتی آ نکھوں سے نازنین کو دیکھا 

ساحل نے جوتے سے نازنین کو مارنا شروع کر دیا 

خدا کے لئیے ساحل مجھ پر رحم کھائیں میں نے ایسا کچھ نہیں کہا 

نازنین نے روتے ہوئے کہا 

مگر ساحل بد ستور نازنین کو مارتا رہا کسی نے آ گے بڑھ کر اس کو منع نہیں کیا 

جب مارتے مارتے تھک گیا تو دھکا دے کر باہر چلا گیا 

تکلیف کی شدت سے نازنین کی آ نکھوں میں آ نسو آ گئے نازنین کے دن رات اسی تکلیف میں گزرتے رہے یہاں تک کہ وہ ماں بن گئ اولاد ہونے کے باوجود ساحل اسی طرح نازنین کے ساتھ سخت رویہ برتا اس کو نظر انداز کرتا اور کئ کئ مہینے گزر جاتے نازنین کے ماں باپ پوتی اور بیٹی کو دیکھنے کے لئیے ترستے رہتے 

نازنین اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود صبر کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی اب اس کی توجہ کا محور اب صرف اس کی بیٹی تھی 

ساحل جو عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھتا تھا بیٹی کو ہاتھ کا چھالہ بنا کر رکھتا اس کی ہر بات مانی جاتی بظا ہر تو ساحل کی بیٹیاں حور کو بہت پیار کرتیں لیکن دل ہی دل میں شدید بیر رکھتیں تھیں 

بھائ ہم نے کبھی بھابھی کو پرایا نہیں سمجھا مگر پتا نہیں یہ ایسا کیوں کرتی ہے ابھی  حور دو رہی تھی تو میں نے کہا لاؤ مجھے پکڑاؤ مگر صاف لورس جواب دے دیا 

ساحل آ گ بگولہ کمرے میں داخل ہوا اور چٹیا سے کھینچتا ہوا نازنین کو گھر سے باہر لے گیا اس گھر کے دروازے تیرے لئیے بند ہیں جا دفع ہو جا اس دفعہ ساحل نے تمام حدیں پار کرتے ہوئے نازنین کو باہر نکال دیا 

حور ماں سے بہت دلی لگاؤ رکھتی تھی ماں گئ تو حور کو بخار رہنے لگ گیا 

ادھر نازنین حور کو یاد کر کے روتی رہتی اس کے ماں باپ الگ پریشان تھے 

ایک دن دروازہ کھٹکا نازنین نے دروازہ کھولا سامنے اسے شہلا اور ساس دکھائ دیں جنھوں نے حور کو پکڑ رکھا تھا 

ساس نے حور کو پکڑایا اور انھیں قدموں سے واپس چلی گئ۔ ایک رات نازنین سونے لیٹی اسے شدید پیٹ میں درد اٹھا جب ڈاکٹر کے گئے تو پتا لگا ایک بار پھر وہ امید سے ہے ڈاکٹر نے اسے بتایا کہ اس کے جڑواں بچے ہیں اور دونوں لڑکے ہیں اور اسے شدید خیال رکھنے کی ضرورت ہے 

نازنین نے ساحل کو فون کر کے بتایا سن کر تو جیسے ساحل کی خوشی کا کوئ ٹھکانہ نہ رہا اس کو بیٹے کی شدید خواہش تھی 

اور کہاں دو بیٹے اس نے نازنین سے اپنے سلوک کی معافی مانگی اور لینے آ گیا 

اب ساحل نازنین کا بہت خیال رکھتا ماں اور بہنوں کی باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا جس سے انھیں اور بھی۔ غصہ آ تا ساحل کو بیٹے کی شدید خواہش تھی 

کچھ عرصہ بعد نازنین نے دو بیٹوں کو جنم دیا دونوں کی شکل ساحل جیسی تھی 

ساحل نے نازنین کا اتنا خیال رکھا کہ نازنین سب دکھ درد بھول گئ وہ خوش تھی کہ ساحل کو احساس ہو گیا ہے مگر اتنی جلدی عورت اپنا بھائ اور بیٹا کسی دوسری عورت کو نہیں سونپتی عورت ہی عورت کی دشمن ہوتی ہے 

ایک خطرناک منصوبہ بن چکا تھا بس اس کو عملی جامہ پہنانا تھا 

طاہر ساحل کا ایک غریب کزن تھا مگر ساحل سے کافی دوستی تھی وجہ ساحل کا ہر کام کر دیتا تھا اس وقت ساحل کمرے میں لیٹا ہوا تھا جب ساحل کو طاہر  نے آ واز دی ساحل باہر آ یا دونوں مل کے بہت خوش ہوے طاہر رہنے آ یا تھا ساحل روزانہ طاہر کے ساتھ باتیں کرتا ایک دن ساحل کام کے سلسلے میں گھر سے باہر تھا نازنین بچوں کو سلا کر کمرے کی صفائی کر رہی تھی جب طاہر کمرے میں داخل ہوا 

نازنین طاہر کو  دیکھ کر چونک گئ طاہر دراصل ساحل کی بہنوں کے ساتھ ملا ہو ا تھا وہ پورا منصوبہ نہیں جانتا تھا 

بھابھی ساحل نے پیسے مانگے ہیں کہ رہا تھا آپ سے مانگ لوں 

طاہر کی بات سن کر نازنین نے ساحل کی قمیض کی جیب سے پیسے نکالے اور طاہر کو دے دئیے اسی دوران ساحل اندر داخل ہوا اور نازنین کو پیسے دیتے دیکھ لیا یہ کیا کر رہی ہو ساحل نے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا 

طاہر بھائ نے آ پکا نام لیا تھا کہ آپ کو پیسے چاہیں ہیں ساحل نے طائر کو دیکھا تو ساحل مکر گیا اور نازنین پر ایک دو غلط الزام بھی لگا ڈالے اب تو ساحل کا دماغ ایک بار پھر الٹ گیا غصے میں جو نازنین کو پیٹنا شروع کیا تو ہاتھ تک نہ روکا 

اب ساحل کا ل پھر سے اپنی بیوی سے متنفر ہو چکا تھا

روزانہ ایک نہ ختم ہونے والے عذاب سے وہ گزر رہی تھی 

شک کا پودہ جڑیں مظبوط کر چکا تھا

سازشوں نے اپنا کام کر دکھایا تھا اسی زلت کی زندگی کے ساتھ وقت آ گے بڑھ چکا تھا بچے اب جوان ہو رہے تھے ان کو یہ سب بہت گراں گزرتا مگر خاموش رہتے 

ساحل کے جڑواں بچوں کے نام احد اور فہد تھے احد بہت حساس بچہ تھا ماں کو اس طرح زلت کی زندگی گزارتا دیکھ کر کڑھتا رہتا ایک دن انتہائ بے بسی کے عالم میں وہ گھر سے نکل پڑا راستے میں سکول کے چند لڑکے نظر آ ہے جو ایک سائڈ پر کھڑے تھے احد وقت گزارنے کے لئیے ان کے پاس لا گیا جہاں سے اس کی بربادی شروع ہو گئ انھوں نے اسے نشے پر لگا دیا ساحل تک جب بات پہنچی پانی سر سے گزر چکا تھا 

ساحل نے بہت کوشش کی لیکن احدجس راستے پر چل پڑا تھا وہاں سے واپسی بہت مشکل ہوتی ہے 

ابھی ساحل اس تکلیف سے نکلا نہ تھا کہ پندرہ سالہ حور چھت پر کسی لڑکے سے باتیں کرتی پکڑی گئی

ساحل غصے سے بھپر گیا اور حور کو ماں سمیت مار مار کے ادمھوا کر ڈالا 

جیسی ماں ویسی بیٹی شہلہ نے نفرت سے دونوں کو غصے سے دیکھتے ہوئے کہا 

آپ ہیں ہماری دشمن آ پ نے ہمیں یہاں تک پہچایا ہے باغی حور نے ہونٹوں سے نکلتے خون کو ہاتھ سے صاف کرتے ہوئے کہا نازنین نے حور کو خاموش کروانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہی 

بکواس کرتی ہے ساحل یہ دیکھ کس لہجے میں مجھ سے بات کر رہی ہے یہ 

ساحل ایک بار پھر حور کو مارنے لپکا جب نازنین اس کے آ گے آ کر کھڑی ہو گئ 

اب نہیں ساحل اب بہت ہو گیا 

تیری اتنی جرات تو میرا راستہ روکے میں تجھے طلاق دیتا ہوں ساحل نے نازنین کو کھڑے کھڑے تین طلاقیں دے ڈالیں 

ایک فاتحانہ مسکراہٹ سب بہنوں اور ماں کے چہرے پر امڈ آ ئ جو ساحل  کے بغیر سب کو نظر آ رہی تھی 

نازنین کا باپ اس دنیا سے چلا گیا تھا اور ماں بھی مگر  مکان اس کے نام کر گئے تھے 

نازنین نے صرف اس وجہ سے ہر بات کو سہا کہ ساحل بچوں پر جان چھڑکتا تھا مگر اب وہ بچوں پر بھی ہاتھ اٹھانے لگا تھا نازنین جانے لگی تو دونوں بچے بھی ساتھ چل پڑے احد ابھی نشے میں تھا اس کو کچھ معلوم نہ تھا

ساحل اب اکیلا تھا اور ماں بہنوں کے رحم و کرم پر تھا اللہ کی کرنی ایسی ہوئ کسی کی زندگی تباہ کرنے کی شائد سزا ملی  اس کا سارا کاروبار تباہ ہو گیا اوپر تلے ناکامیوں نے ساحل کو حواس باختہ کر دیا بہنیں تو پیچھے ہی پیسے کی وجہ سے تھیں اب احد اور ساحل ان کو بوجھ لگنے لگے ایک دن ساحل کسی کام سے باہر گیا احد کھانا مانگنے صبا کے پاس گیا صبا نے کھری کھری سنا کر گھر سے باہر نکال دیا ادھر اس کو کسی بات کی پوش نہیں تھی ماں کی بہت یاد آ رہی تھی وہ بیچ سڑک کے جا کر سو گیا اور ایک تیز رفتار ٹرک نے اس کی جان لے لی 

جب احد کی لاش گھر پہنچی لاش دیکھ کر ساحل پر فالج  کا حملہ ہوا اور وہ   معذور ہو گیا نازنین کی تو جیسے دنیا ہی اجر گئ اس کو سب سے زیادہ دکھ اس بات کا تھا کہ اس کا بچہ اپنی ماں کا غم لے کر دنیا سے چلا گیا

اس بات کو کئ سال گزر چکے ہیں حور نے ماں کے سمجھانے پر اپنی توجہ تعلیم پر لگائ اور آ ج نازنین کے دونوں بچے اعلی تعلیم یافتہ ہیں 

فہد ائیر فورس میں ہے اور حور ڈالر ہے دونوں نازنین کا بہت خیال رکھتے ہیں نازنین ماضی کے تمام لمہوں کو بھلا چکی ہے بس ان تینوں کو احد کی کمی بہت محسوس ہوتی ہے جو جھوٹی سازشوں کا شکار ہو کر اس دنیا سے چلا گیا

اسی شہر میں ایک چھوٹے سے گھر کے باہر  بوسیدہ کپڑوں اور گندے  حلئیے میں ایک معزور  شخص کرسی پر بیٹھا جانے خلاؤں میں کیا گھورتا رہتا ہے اور جانے کیوں روتا رہتا ہے

یوں لگتا ہے کہ وہ کسی پچھتاوے کا شکار ہے ۔۔۔۔۔۔حور دو سال کی تھی ایک دن ساحل تھکا ہوا گھر داخل ہوا اس کا کسی سے جھگڑا ہوا تھا اس دفعہ نسرین جو ساحل کی سب سے چھوٹی بہن تھی وہ اسے سیڑھیوں میں بیٹھی دکھائ دی ساحل کو دیکھا تو دوڑ کر اس کے گلے جا لگی  

Post a Comment

0 Comments