Ticker

6/recent/ticker-posts

Freedom From Stress And Pressure

Freedom From Stress And Pressure

ہمارے اندر سے ہی انرجی نکلتی چلی جاٸے اور اس کے روکنے کا کوٸی طریقہ نہ ہو تو وہ طاقت آپکی کامیابی کا راز ہے۔آپ کو سورج بننا نہیں ہے ہم سب سورج ہی ہیں مطلب آپ میں مجھ میں اور دنیا کے کسی انسان میں کوٸی فرق ہی نہیں ہیں رتی بر اور یہ سچ ہے۔بہت زیارہ انرجی آپ میں بھری پڑی ہیں انلمیٹڈ پوٹینشل ہیں انفینٹ پوسیبلیٹیس ہیں لیکن صرف اپنے تھاوٹ کے لیبل پہ ہم چھوٹے ہوتے جارہے ہیں۔بچپن میں آپ نے میں کتنے انرجی تھے یا لڑکپن میں غصہ آنے پہ توڑنے پہ تولے رہتے تھے گھر والے اتنا کہتے تھے مت توڑنا مت توڑنا پھر بھی توڑ ہی دیتے تھے مطلب کمال کی انرجی تھی اب وہ کیا ہے جو ہمارے انرجی کو کھینچ لیتی ہےمزے کی بات یہ ہے کہ وہ ہم سب کو پتا ہے کہ دکھی ہے ڈپرس ہے پریشان ہے اس میں انرجی کی کمی ہے انرجی ہے بھی تو نگیٹیو انرجی ہے لڑنے ورنے کو تو تیار ہے پر کوٸی کام کی بات کرے تو نہیں نہیں نہیں۔تو یہ پوزیٹیو کنسکٹیو انرجی ہمارے اند کہاں سے آتی ہیں جب دماغ پوری طرح سے ریلکس ہوتا ہے دماغ پوری طرح سے ایک جگے پر لگا ہوا ہوتا ہے اس میں ہزار چیزیں نہیں کھوم رہی ہوتی نہیں تو ہمارے دماغ کی حالت ایسے ہو جاتی جیسے کوٸی کمپیوٹر ہینگ پڑا ہوا ہو۔بچے پوری انجی سٹینگ میں ہیں ایسی لیے ان میں پوری انرجی پڑی ہیں اوع اس ٹینشن کا حل کیا ہے آپ کو دوبارہ سے بچہ بننا ہے کیونکہ جب ہم پریشان ہوتی ہے ہماری انرجی کم ہوتی ہیں جب ہم پریشان نہ ہو ہماری انرجی اچھی ہوتی ہے کمال کی ہوتی ہے تو ہم دکھی کیوں ہتے ہیں سادہ جواب ہیں کہ جو چیزیں ہماری ضرورت ہیں یا ہیمیں چاہیے ہوتا ہے وہ ہمارے پاس نہیں ہوتے ہیں تو ہم دکھی ہو جاتے ہیں۔وہ چیزیں کہاں سے آتی ہیں پیسے سے اور یہ سچ ہے جو کہتا ہے نہیں ہیں وہی لوگ الٹے سیدھے چکروں میں پڑ جاتا ہے اور باباٶں کے پاس جا کے الٹے سیدھے حرکتیں کےتے ہیں الٹی سدھی باتیں کدتے ہیں میرا دماغ سیدھا نہیں رہتا تو اصل بات وہی ہے بھاٸی آپ کے جیب میں پیسہ نہیں ہے پہلے جا کے پیسہ کما دماغ اپنے آپ ٹھیک ہو جاٸے گا۔آپ کے پاس اتنا پیسہ ہونا لازمی ہیں جس سے آپکی ضروریات پوری ہوتی ہو تو آپ کو سوچنا اور کرنا یہ ہے کہ آپکی بساط کے مطانق کیا کرنا چاہیے جس سے آپکی ضرورت پوری ہو۔
دوسرا ہم دکھی کب ہوتے ہے کب جب ہم جتنا کما رہے ہوتے ہیں اس سے زیادہ ہمارے خرچے ہوتے ہیں یہ چیزیں سننے اور پڑھنے میں بڑا سمپل لگتا ہے پر جڑ انہیں باتوں میں ہے اچھی طرح خوشی سے جینے کا اگر ایسی چیزیں سمجھ آدہی ہیں تو آپ کامیاب ہے۔آپکے پاس اتنا عقل ہونی چاہیے کہ میری پاس میں جتنا پیسہ ہیں میرا خرچہ ہمیشہ ہی اس سے کم رہے اگر آپ کو بنا ٹنشین کے جینا ہے تو۔
تیرا ہم دکھی اس لیے ہوتا ہے جب بھی ہم اپنے آپ کو کسی سے کمپریزن کرتے ہے تو پریشر کریڈ ہوتا ہے اس دکھ کو آپ پریشر کہہ سکتے ہے اور جس کے اوپر زیادہ پر یشر ہوتا ہے وہ کامیابی کے دوڑ میں بھاگ نہیں سکتے کمپریزن چاہے اپنے سے اوپر کا کرو یا اپنے سے نیچے کا پریشر بڑھ ہی جاتا ہے کیونکہ آپ یہ جان جاتا ہے میرے سے نیچے کا لیول پہ اجاٶں تو میرا واٹ لگنے والا ہے تو ذنگی میں اگر آگے بڑھنا ہے تو اپنے آپ کو کسی سے کمپیر نہیں کرنا چاہیے۔کسی کے جیسا نہں بننا ہے بلکہ اپنے جیسا بننا ہے۔تو سمجھدار طریقہ کیا ہے جینے کا دنیا جیسی ہے پرفیکٹ ہے کچھ بھی نہیں بدلنا اس دنیا میں جب آپ کو دکھی ہونے سے دنٕیا کی طاقت روک نہیں سکتا تو آپ کو خو ش رہنے میں بھی دنیا کا کوٸی طاقت روک نہیں سکتا۔آپ کو پاگل بننے میں کوٸی نہیں روک سکتا تو بچوں کی طرح جینا سیکھو دنیا جلتا ہے جلنے دو لیکن پہلے کماٸی بڑھاٶ پھر خرچے بڑھاو اور خوش رہو۔

Post a Comment

0 Comments