Amazon

Ticker

6/recent/ticker-posts

گلگت بلتستان میں پیش آنے والے نا خوشگوار واقعات جوڈیشل انکوائری کمیشن کا تفصیلی معائنہ مکمل

گلگت(پ ر): ایران میں ایران اور اسرائیل کے مابین جنگ کے تناظر میں رہبرِ
گلگت بلتستان میں پیش آنے والے نا خوشگوار واقعات جوڈیشل انکوائری کمیشن کا تفصیلی معائنہ مکمل

اعظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے تسلسل میں گلگت میں رونما ہونے والی صورتحال کے پس منظر میں قائم کردہ جوڈیشل انکوائری کمیشن نے اپنی تحقیقات کو وسعت دیتے ہوئے جائے وقوعہ کا نہایت مفصل، ہمہ جہت اور باریک بین معائنہ مکمل کر لیا۔
کمیشن، جس کی سربراہی معزز چیئرمین جسٹس ملک عنایت الرحمن کر رہے ہیں، جبکہ اس کے معزز ارکان میں جسٹس جوہر علی اور جسٹس جہانزیب خان شامل ہیں، کمیشن نے  جائے وقوعہ کا معائنہ کیا موقع موجود مادی شواہد، جانی و مالی نقصانات، حالات و واقعات کی نوعیت اور اسباب و عوامل کا نہایت دقیق اور عمیق جائزہ لیا۔مزید برآں، معائنہ کے فوری بعد کمیشن کے نوٹس پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور وقوعہ سے متعلق اپنے اپنے بیانات قلمبند کرائے۔ ان میں کمشنر گلگت  ڈویژن توقیر حیدر کاظمی، ڈی آئی جی گلگت ریجن راجہ مززہ حسن، اسسٹنٹ کمشنر ہیڈکوارٹر گلگت عادل، ایس پی گلگت محمد اویس، اور ایس ڈی پی او سٹی خدیجہ طاہرہ شامل تھے۔ متعلقہ افسران نے کمیشن کے سامنے پیش ہو کر وقوعہ کے پس منظر، امن و امان کی مجموعی صورتحال، اختیار کردہ سیکیورٹی اقدامات اور واقعات کی ترتیب پر جامع اور مدلل بیانات قلمبند کروائے۔
تفصیلات کے مطابق کمیشن نے جائے وقوعہ سے متعلق شواہد کا تکنیکی اور قانونی زاویوں سے باریک بینی کے ساتھ جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ متعلقہ حکام سے نہایت اہم اور بامقصد سوالات کیے، جن کا بنیادی مقصد حقائق تک رسائی اور ذمہ داریوں کا تعین ہے۔ کمیشن نے اس امر کا اعادہ کیا کہ تحقیقات کو ہر صورت شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ کی بنیاد پر پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے گا تاکہ حقائق بلا کم و کاست منظر عام پر لائے جا سکیں۔مزید برآں، تقریباً 10 شہریوں نے بھی کمیشن کے روبرو پیش ہو کر وقوعہ کے حوالے سے اپنے بیانات قلمبند کروانے کی باضابطہ استدعا کی، جسے کمیشن نے ضابطے کے مطابق زیر غور لاتے ہوئے اجازت دے دی۔واضح رہے کہ یہ جوڈیشل انکوائری کمیشن حالیہ واقعات کے محرکات، ذمہ دار عناصر اور انتظامی ردِعمل کا ہمہ گیر جائزہ لینے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے، تاکہ آئندہ گلگت بلتستان میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر، قابلِ عمل اور دیرپا تجاویز مرتب کی جا سکیں۔ مزید برآں، متعلقہ ذمہ دار حکام کو بیانات کے لیے طلب کیا جا چکا ہے۔ کمیشن جلد بلتستان کا دورہ بھی کرے گا، جہاں جانی و مالی نقصانات، حالات و واقعات کی نوعیت، اسباب و عوامل اور جائے وقوعہ کا تفصیلی جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ تمام تر معلومات، شواہد اور بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔ تمام کارروائی مکمل ہونے پر کمیشن اپنی حتمی رپورٹ مرتب کر کے سفارشات کے ہمراہ متعلقہ حکام کو ارسال کرے گا۔
نوٹ: یہ بیان چیئرمین جوڈیشل انکوائری کمیشن گلگت بلتستان جناب جسٹس ملک عنایت الرحمن کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے۔

Post a Comment

0 Comments