Ticker

6/recent/ticker-posts

دل کی بات دل میں نہ رہے

دل کی بات دل میں نہ رہے

والدین بچوں سے شادی کے لئے مکمل رائے حاصل کریں اور یہ حکم خداوندی بھی ھے تاکہ مرد اور خاتون اپنی سوچ کے تحت پارٹنر کا انتخاب کر سکیں جنسی معاملات مرد اور خاتون نے چلانے ھوتے ہیں والدین نے نہیں اگر بچے اپنی پسند کا اظہار کرتے ہیں تو انکے اظہار کو ہر صورت مد نظر رکھنا چاھئیے ناکہ والدین صرف اور صرف اپنی عزت اپنے فائدے کے سودے کرتے پھریں اور بچوں کو بلاوجہ Emotional blackmail کرتے رہیں ۔۔۔
ارے لڑکے لڑکیاں اگر اپنی پسند بھی شامل کر دیں تو اس میں کیا حرج ھے یہ الگ بات ھے کہ بچے کئ بار جذباتی ھو کر غلط فیصلے بھی کر لیتے ہیں اور شادی کے بعد  بھگتے بھی ہیں مگر بچے بھی والدین پر بھروسہ رکھیں والدین کے سامنے اپنی پسند کا اظہار کریں اگر والدین کچھ کیڑے نکالتے ہیں تو انکے کیڑوں پر غور وفکر کیجئے والدین سے صرف اختلافات رکھنا مناسب نہیں کیونکہ بچوں سے زیادہ تجربہ والدین کو حاصل ھوتا ھے لیکن والدین کو بھی بچوں کی پسند نا پسند کا مان رکھنا چاھئیے تاکہ اگر والدین نے بہت سے تجربوں سے کسی کا انتخاب کیا بھی ھے تو ھو سکتا ھے جسکی شادی ھو رہی ھو اس نے بھی ذہن بنایا ھو کہ میرا جیون ساتھی اس طرح کا ھونا چاھئیے اگر بچے رشتے سے انکار کی کوئی وجہ بیان کرتے ہیں تو والدین کو بھی سوچنا چاھئیے بچے والدین سے دل کی بات شیئر کرنے میں جھجکتے ہیں خاموش رھتے ہیں مگر والدین کی پسند پہ بھی اعتراض کرتے ہیں ارے بچو !!!! اگر اپکو والدین کی پسند پہ اعتراض ھے تو صاف صاف لفظوں میں اپنے اعتراض کی سولڈ وجہ حوصلے ہمت کے ساتھ بیان کیجئے دل کھول دیجئے ڈرنے والی کونسی بات ھے آپ حق رکھتے ہیں اپنی پسند نا پسند کیلئے ، اگر بچوں کو یا والدین کو رشتے پر اعتراض ھے تو دونوں کو کھل کر اس پر بات کرنی چاھئیے ناکہ اندر کی بات اندر چھپا لی جائے اور رشتہ اچھا نہیں صرف اس پر رونا اور لڑائی ڈالی جائے ۔ 

مجھے آپکی پسند میں یہ چیز پسند نہیں کھل کر وجہ سامنے انی چاھئیے تاکہ اسکا حل نکالا جائے ، آپس میں ڈسکس کرنے کے بعد والدین اور بچے پھر ایک فیصلے پر پہنچیں تاکہ جتنے کیڑے والدین نے بچوں کی پسند پہ نکالنے تھے وہ بھی سامنے آ جائیں اور جتنے کیڑے بچوں نے والدین کی سلیکشن پر نکالنے تھے وہ بھی سامنے رکھ دیئیے جائیں اسکے بعد mutual understanding کے ساتھ ایک فیصلہ لیا جائے جس میں برکت بھی ھو گی اور رحمت بھی والدین تھورا بچوں پر ظلم کم کریں اگر اپکی شادی اپکے والدین نے اپنی مرضی سے کروائی ھے تو کہاں لکھا ھے اپ بھی اپنے بچوں سے یہ حق چھین لیں پسند کی شادی میں اگر خرابی کی گنجائش نکلتی ھے تو یہ کس نے کہہ دیا کہ arrange marriage سو فیصد کامیاب سودا ھے بات کھلے ماحول میں ھونی چاھئیے بچوں کی طرف سے بھی اور والدین کی طرف سے بھی تاکہ جسکی زندگی کا فیصلہ ھو رہا ھے اسے بھی پریشانی نہ رھے اور والدین بھی خوش رہیں ۔ 
اکثر والدین زور زبردستی بھی کرتے ہیں عزت اور دولت کے لالچ میں بچوں کی شخصیت انکی سوچ انکی پسند کی قربانی چڑھا دیتے ہیں ایسے فیصلے ساری زندگی ان شادی شدہ بچوں کیلئے عذاب بن کر رہ جاتے ہیں ارے جنہوں نے زندگی گزارنی ھے بیڈ پہ بھی اور معاشرے میں بھی انکو بھی کوئی شادی کے فیصلوں میں حیثیت حاصل ھونی چاھئیے اپنے پارٹنر کی سلیکشن میں یہ بچوں کو شریعت اور اللہ نے حق دیا ھے اور اپنے حق کا استعمال کرنا سب کو آنا چاہئیے اس سے پہلے کہ شادی شدہ زندگی بد دلی کے ساتھ گزاری جائے نہ خود خوش نہ اپنے پارٹنر کیلئے محبت دل میں رھے فیصلہ کیجئے ۔
شادی محبت اور پسند کے بغیر نوکری کی حیثیت رکھتی ھے وقت ضائع مت کیجئے شادی کیجئے نوکری نہیں  ۔۔۔۔

Post a Comment

0 Comments