Amazon

Ticker

6/recent/ticker-posts

سرکاری اساتذہ کا دوبارہ ٹیسٹ ۔۔۔جذباتی اعلان ۔۔۔ عارف سحاب

سرکاری اساتذہ کا دوبارہ ٹیسٹ ۔۔۔جذباتی اعلان ۔۔۔ عارف سحاب
گلگت بلتستان کے سرکاری اسکولوں میں پڑھانے والے محترم اساتذہ کرام کے بارے میں شنید ہے کہ اسکولوں کے بدترین نتائج اور تعلیمی معیار کی گرتی ہوئی تشویش ناک صورتحال کے باعث چیف سکریٹری گلگت بلتستان نے ان اساتذہ کا دوبارہ تحریری امتحان لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس خبر کا اڑنا ہی تھا کہ اساتذہ کی بڑی تعداد کی ہوائیاں ہی اڑ گئی ہیں جبکہ بے روزگاروں کی ایک بڑی کھیپ کی آنکھیں بالکل ایسے چمک رہی ہیں جیسے کسی مالدار ضعیف کی موت کے قریب اس کی کسی قلاش گھرانے سے بیاہی ہوئی چوتھی بیوی کی دیدہ امید چمکتی ہے ۔بات بلا تمہید بڑھاتے ہوئے اتنا کہوں گا کہ گلگت بلتستان میں خصوصیت کے ساتھ جس محکمے کو تباہی کے دھانے تک پہنچانے میں اس محکمے کے سکریٹریز ، ڈائریکٹرز اور اساتذہ نے بھرپور کردار ادا کیا ہے وہ محکمہ تعلیم ہے ۔ جن لوگوں نے اس محکمے کو بہتر بناکر اسکولوں اور کالجز کو معیاری بنانے کی کوشش کی ایسے قابل قدر افراد کی تعداد ہمیشہ آٹے میں نمک کے برابر رہی ہے ۔سیاسی نمائندوں نے اس محکمے اور اس کے نظام کو اپنی رکھیل بناکر رکھا ۔وہ دن سب کو یاد ہیں کہ بلتستان میں جس کے پاس تین لاکھ روپے ہوتے تھے وہ اس محکمے کے ایک خاص مافیا کے ذریعے ٹیچر بھرتی ہوجاتا تھا۔ گلگت بلتستان میں الیکشن میں دو اداروں کے ملازمین خصوصی طور پر آستینیں چڑھا کر ملوث ہوتے ہیں۔ ان میں سے بھی ایک محکمہ تعلیم ہے۔ لیکن یہ تصویر کا ایک رخ ہے ۔تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ گلتری جیسی دنیا سے کٹی ہوئی تحصیل سے لیکر داریل تانگیر جیسے پسماندہ علاقوں تک ،بالائی علاقوں کے دور افتادہ اسکولوں میں بھی یہی سرکاری اداروں کے اساتذہ ہیں کہ جو خون دل سے اس گلستان کی آبیاری کر رہے ہیں ۔ان اساتذہ میں ایسے بھی ہیں کہ جن کو محکمے کے اندرونی تعلیم بلکہ معاشرہ دشمن جاہل بالا آفیسران کے غرور و حسد سمیت بگڑے نظام کی وجہ سے متاثر ہونا پڑ رہا ہے ورنہ وہ اپنے مضامین کی تدریس میں بہت مفید ثابت ہوسکتے ہیں ۔ چیف سکریٹری صاحب آپ یہ کیسے بھول گئے کہ حال ہی میں ایک نئی کھیپ کومحترم عدالت نے نوکریوں پر بحال کرکے آپ کو ان کے بقایا جات تک ادا کرنے کا حکم جاری کیا ہے ۔ براہ کرم بلاوجہ یہ سوشل میڈیا پر اپنی ریٹنگ بڑھانے کی بجائے حقیقت کے آئینے میں دیکھیں ۔ فرض کیا جائے کہ اساتذہ کا ٹیسٹ ہوجایے تو کیا آپ کا سسٹم اتنا اچھا ہے کہ ٹیسٹ میرٹ پر ہوگا ؟ یہاں اپنی ںیگمات کی ایل پی سی نہ بدلنے پر ادارے کے بڑے بڑے آفیسروں کو سیاسی آقاوں نے کھڈے لائن لگا دیا تو کیا یہ گارنٹی آپ دے سکتے ہیں کہ یہاں سب کچھ شفاف ہو گا ۔۔
فرض کیا جائے کہ ٹیسٹ پاس ہونے کے بعد اس ٹیچر کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ ایک بہترین مدرس بھی ثابت ہوگا ؟
کیا فیل ہونے والے چپ چاپ اپنی کارکردگی پر فاتحہ پڑھ کر سائڈ لائن یا پھر مکمل نوکریوں سے دست بردار ہوجائیں گے ؟ سچ تو یہ ہے کہ آپ کے پاس بمشکل تیس سے چالیس فیصد اساتذہ میرٹ کے تمام تقاضے پورے کرتے ہیں باقی تو سارا خام مال ہے ۔
جناب عالی
کم سے کم بلتستان کی حد تک میں یہ جانتا ہوں کہ یہاں اسکولوں اور کالجز میں اساتذہ کی سبکدوشی تو ہوجاتی ہے لیکن خالی آسامیوں پر تقرری کا کوئی دستور ہی نہیں۔ اسکولوں کے پی سی فور کا زرا جتھا اٹھا لیں نظر آجائے گا کہ کتنی آسامیاں سرے سے خالی پڑی ہیں ۔ میری مؤدبانہ گزارش ہے کہ بلاوجہ اس آگ میں ہاتھ نہ ڈالیں جس کا نتیجہ صفر اور وقت کے ضیاع کے سوا کچھ نہیں ہے ۔اگر آپ واقعی نظام میں بہتری چاہتے ہیں تو محکمہ تعلیم میں اصلاحات لائین ، اسکول کالجز میں خالی آسامیاں بھرپور میرٹ کی بنیاد پر بھریں ۔ اساتذہ کی باقاعدہ کارکردگی کا ریکارڈ بناکر ان کا سروس ریکارڈ ، ترقی و تنزلی کا کوئی عملی نظریہ سامنے لائیں ۔ان ہی موجودہ اساتذہ کی تربیت اور جدید ٹریننگ کا نظام وضع کریں ۔ ورنہ یہ کہ یہ ٹیسٹ وغیرہ جیسی وقت گزاری پر آپ کو نوکر شاہی کے کچھ چمچے داد تو دیں گے عملی میدان میں رزلٹ پھر زیرو ہوگا ۔

Post a Comment

0 Comments