Amazon

Ticker

6/recent/ticker-posts

لوگ پیار محبت میں کیوں ہار جاتے ہیں اورمحبت میں سب سے زیادہ درد کب ہوتا ہے؟ Why do people lose in love and when does love hurt the most?

لوگ پیار محبت میں کیوں ہار جاتے ہیں اورمحبت میں سب سے زیادہ درد کب ہوتا ہے؟ Why do people lose in love and when does love hurt the most?

محبت کی دنیا میں اکثر انسان ہار جاتے ہیں۔لوگ محفل میں،دوستوں میں،ہجوم میں اکثر ہنسنے کی ادکاری تو کرتے ہیں لیکن محبت کا دکھ کہوں یا عذاب کہو انسان کی جڑوں کو ہلا دیتا ہے۔یادوں کی نگری میں پہنچ کر انسان ایک ایسی دنیا میں پہنچ جاتا ہے جہاں وہ ساری دنیا بھلا کر اس محبوب کی یاد میں جم جاتا ہے کہ شاید روح نکلنے کا بھی پتہ نہیں چلتا۔محبت کے رشتے میں چاہے وہ محبوب ہو یا دوست یا کوٸی اور انسان کو جس سے محبت ہو وہ اسکی کمزوری اور جان لیوا مرض بن جاتا ہے۔محسوس ہوتا ہے کہ دل جل رہا ہے دل کی دھڑکن رک رہی ہیں اور آنسو کی سمندر میں نہا رہی ہیں ایسا تب ہوتا ہے جب کوٸی اپنا آپ سے دور چلا جاتا ہے لازمی نہیں وہ آپ کا دل توڑ کر جاۓ یا آپ کے ساتھ دھوکہ کر کے جاۓ بس چاہنے والوں کا زندگی سے دور جانا بہت دردناک عذاب ہے ایسی لٸے رب تعالی سے دعا کرو کہ کوٸی کسی سے دور نہ ہو۔ہماری زندگی میں سے جب سب سے اہم بندہ دور چلا جاۓ تو ایک ہی حل ہے کہ جب تک کچھ وقت یا کچھ دن بیت نہ جاۓ یا تو دوستوں کے ساتھ یا کسی محفل میں رہا جاۓ چونکہ ایسی عالم میں تنہاٸی بہت خطرناک اور دردناک ثابت ہوتا ہے۔جو دل میں خوشی بن کر آتی ہے اس کے جانے سے دل ٹوٹ جاتا ہے اور یہ ایک فرد کی بات نہیں اس راہ میں لاکھوں دل ٹوٹ جاتے ہیں۔اور وہی جو خوشی بن کر آتے ہیں جاتے وقت ایک ایسا درد آپ کے دل میں چھوڑ جاتا ہے جو کبھی بھی کسی بھی وقت آپ کو رونے پر مجبور کر دیتے ہیں اور ایسی حالات میں انسان بہت کمزور پڑھ جاتا ہے۔

چونکہ محبت میں انسان اتنا گرفتار ہو جاتا ہے کہ اسے وہ ہی کل  دنیا لگنے لگتا ہے چونکہ  ہمیں اس کی عادت ہو چکی ہوتی ہے اور عادت بدلنا بہت مشکل کام ہے۔ایسی لٸے زندگی میں ایسی عادتوں کو اپناو جو آپکی صحت و تندرستی اور آپ کی زندگی پر برا اثر نہ ڈالیں ورنہ نیندیں اڑ جاتی ہے اور ہمیشہ کے لیے ایک دکھ آپ کے زندگی میں ایسے بس جاٸینگے جس کو بھلانا یا اس سے جان چھٹوانا ناممکن ہو جاتا ہے۔کہتے دنیا میں کوٸی چیز ناممکن نہیں  لیکن جہاں تک زندگی کی تجربات سے سیکھا محبت ہی وہ بھلا ہے جس میں ناممکن ممکن کرنے کے لٸٕ انسان تیار ہوجاتا ہے اور جو من پسند ہے اسے بھلانا ناممکن ہی ہے۔محبت میں نہ انسان کو دنیا سے شکایت ہوتی ہے نہ  محبوب سے بلکہ وہ ہر چیز اندر ہی اندر محسوس کر کے خود کو توڑتا ہے انسان کو برباد اور آباد کرنے میں محبت سے جتنی طاقت ملتی ہے وی نہ کسی انسان سے نہ کسی ٹیکنالوجی سے ناممکن ہے۔محبت ہی وہ اوزار ہے جس سے انسان کی ارادے مضبوط ہو جاتی ہے اور اس سے انسان کی روح اور دماغ کو طاقت ملتی ہے۔

سادے الفاظ میں یہ کہ محبت میں انسان جب قید ہو جاتا ہے تو قید ہی ہو جاتا ہے اس سے رہاٸی چاہتا ہی نہیں اور کوٸی بھی کام جب تک انسان نہ چاہے ہو ہی نہیں سکتا۔محبت کے لیے وہ سارے حق دے دیتا ہے جو دیا نہیں جانا چاہیے چونکہ اس میں انسان جان دینے اور لینے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔جب ایسی حالت میں چھوڑ جاتے ہیں تو بکھرنٕے کے علاوہ کوٸی راستہ بچتا ہی نہیں۔اور جب کچھ عرصہ گزارنے کے بعد پچھتاوا ہوتا ہے کہ ایسا کیا ہی کیوں چاہا ہی کیوں اور ایسی کیوں اور کیا کے سوالوں کے کشمکش میں انسان کی آدھی زندگی گزار جاتا ہے اور جب ہر چیز سمجھ آتی ہے اور دنیا کامطلب سمجھ آتے ہیں تو انسان اس قابل نہیں رہتا کہ وہ کچھ کرے بس گھر کے کسی کونے میں پڑے پچھتاوا اور دکھ آنسو کے بیج رہ کر گزر جاتا ہے۔اس لیے جب خود میں دم ہو یہ بات سمجھ لینا چاہیے کہ جب یہ دنیا ہی فانی ہےتو دنیا کے لوگوں سے ساتھ دینے اور ساتھ چلنے کی امید ہی ہمارے لیے زہر ہے اس لیے زندگی میں چاہنا ہےتو خود کو چاہو اور خود سے محبت کرو  تاکہ دنیا میں جی سکے اور لوگوں کے کام آسکے۔آپ کی وجہ سے کسی ٹوٹٕے انسان کی زندگی سنور جاۓ ناکہ خود ٹوٹ جاۓ۔

Post a Comment

0 Comments