Ticker

6/recent/ticker-posts

پبجی(PUBG) کی حقیقت۔؟؟


پبجی(PUBG) کی حقیقت۔؟؟

پبجی(PUBG) کی حقیقت۔؟؟


ویسے تو تقریباً ہر ماہ کیمنگ انڈسٹری اپنی صارفین کی لیے درجنوں وڈیو گیمز ریلز کرتی ہے۔ لیکن تقریباً آج سے ڈھاٸی سال پہلے ریلز کی جانے والی پبجی گیم کو  دنیا میں تیزی سے مقبول ہونے والے گیم میں سے ایک ہونے کا اعزاز حاصل  ہے۔ جون 2018  کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پبجی کے دنیا میں چالیس کروڑ 400000000 سے ذاید ایکٹیو یوزرز ہیں جب میں سے اوسطاً ساڑھے آٹھ کروڑ آفراد روزانہ کی بنیاد پر یہ گیم کھیل رہے ہیں۔

پبجی بنیادی طور پر ایک شوٹینگ کیم ہے جس میں کیھلاڑیوں کا مقصد ایک دوسرے کو موت کی گاٹھ اُتارکر آخری دم تک ذندہ رہنا ہوتا ہے۔اور اس گیم کو ایک دو یا پھر چار بندوں کی ٹیم کے طور پر کھیلا جاتا ہے۔گیم کی شروات میں سو 100 کھیلاڑی جہاز سے کود کر ایک بیاباں جزیرے پر اترتاہے زمین پر اترتے وقت چونکہ ان کے پاس کسی قسم کا ہتھیار موجود نہیں ہوتا اسلیے ان کی پہلی کوشش جزیرے پر موجود  بوسیدہ عمارات اور کھنڈرات میں پڑے ہوے ہتھیاروں کو استعمال میں لانا ہوتا ہے تاکہ وہ مخالف کھیلاڑیوں کو موت کی گاٹھ اتار سکے۔ایک عام پبجی (PUBG) گیم کا دورانیہ تےس منٹ تک ہو سکتا ہےاور گیم میں دلچسپی برقرار رکھنے ک خاطر چند منٹ بعد  کھیل کا موجود ایریا سکڑتا جاتا ہے۔کھیل کے ایریا سے باہر رہنے والا  

کی وجہ سے اسے گیم سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔
اب بات کرتے ہے کہ گیم بنایا کس نے اور بنانے کی ضرورت کیوں پیش آٸی؟؟
اس مشہور زمانہ گیم کو بنانے والا کوٸی پروفشنل ڈولپر یا پروگرامر نہیں تھا بلکہ وہ فوٹو گرافی ،ویپ ڈیزاینیگ اور گرافک ڈزاینیگ کے شعبے سے منسلک تھا۔دو ہزارتیرہ میں طلاق کے بعد جب برینڈن گرین (Brandan Green) اپنے کام کاج چھوڑ کر برازیل سے واپس اپنے ملک آیرلینڈ آیا تو اسکی نظر کٸی پرانی فرسٹ پرسن شوٹر سے گذری جن میں دو ہزاردو 2002 اور2003 میں ریلیز کی جانے والی آمریکاز  اور ڈیلٹا فورس بیلک ہارک ڈاون جیسی گیمز سرفرست تھی۔ایک مشکل رشتے سے نجات پانے کے بعد ٹایم پاس کے لیے اس نے متعدد فرسٹ پرسن شوٹر گیم کھیلی لیکن وہ جلد ہی ان سے بور ہو جایا کرتا تھا۔برینڈن نے نوٹ کیا کہ ذیادہ ایف پی ایس یعنی فرسٹ پرسن شوٹر گیم میں یکسانیت کا نمایاں پہلو تھا اور ان میں موجود پیلینک  ایریا بھی بہت مختصر اور سادہ تھاجیسے آسانی سے پار کیا جا سکتا تھا۔برینڈن ایک ایسی گیم کا خواہشمند تھا جوکہ آسان نہ ہو بلکہ ہر دفعہ کھیلنے پر نیا چیلنج کا سامنا کرنا پڑے ۔
دو ہزار سولہ میں برینڈن کوریا آ گیا جہاں اسے کمپنی کی جانب سے ایک خودمختار گیم بنانے کی آفر دے دی 
یوں مشہو ذمانہ گیم پبجی کی شروات ہوٸی۔ 

Post a Comment

11 Comments